بنگلورو،26؍جولائی(ایس او نیوز) ملک بھر میں جاری ٹرک ہڑتال آج ساتویں دن میں داخل ہوگئی ، اس ہڑتال کی وجہ سے شہر بنگلور کی اے پی ایم سی اور دیگر بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی مال برداری مکمل مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
بنگلوروشہر کے یشونت پور اور دیگر مقامات پر واقع اے پی ایم سی میں مال برداری معطل ہونے کی وجہ سے یہاں کاروبار کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے جاری ہڑتال کے باوجود دکانوں اور گوداموں میں اناج اور دیگر اشیائے ضروریہ کا جو ذخیرہ تھا اسے اب تک فروخت کیا جارہا تھا۔ آندھرا پردیش، مہاراشٹرا، تملناڈو، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں سے اناج اور دیگر مطلوبہ مال کی آمد نہ ہونے کے سبب اے پی ایم سی کی دکانیں بھی خالی ہوگئیں ، جس کے سبب آج سے اے پی ایم سی کا کاروبار بھی ٹھپ ہوگیا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ ٹرک ہڑتال کا یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کافی حد تک بڑھ سکتی ہیں، ٹرک مالکان مرکزی حکومت سے اپنے مطالبوں پر بضد ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لائی جائے ، انشورنس پریمیم میں اضافہ واپس لیا جائے اور ساتھ ہی ٹرکوں سے بھاری ٹول کی وصولی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ لاری مالکوں کے اسوسی ایشن کے صدر جی آر شنموگپا کی قیادت میں یہ ہڑتال جاری ہے۔ حالانکہ ملک بھر میں یہ ہڑتال سات دنوں سے جاری ہے لیکن اب تک مرکزی حکومت کی طرف سے ٹرک مالکوں کو طلب کرکے بات چیت کی کوئی پہل نہیں ہوئی ہے۔